قیاس بھی عجب کہ وہ رویا ہوگا
لاج سے جب سر جھکایا ہوگا
حنا بھی پھوٹ کر روئی ہوگی جب
لرزتے ہاتھوں کو دکھایا ہوگا
الفاظ مرے سرمایہ حیات اس کے
یادوں سے دل اس نے بہلایا ہوگا
وہ سردی، وہ پیپل، وہ پرانا گھر
اف، یاد وہ جب زمانہ ایا ہوگا
ہر روز کی طرح سویرے چڑیوں نے
گنگناتے ہوئے اسے جگایا ہوگا
کچھ یوں ہی دل سے مجبور ہو کر وہ
اج پھر سڑک کی طرف ایا ہوگا
یہ کسک دل کی کہے کوئی بات اس میں
جان کہہ کر جو قمر اس نے بلایا ہوگا
راجہ اکرام قمر