راحت لمس ہوائے شام کی لاجواب تھی
رفاقت اس حسن کلام کی لاجواب تھی
پھر اس کے بعد پری چہرہ نہ کوئی مل سکا
صورت اس خوش خرام کی لاجواب تھی
ملے تو بچھڑنے کا خیال تک نہ ایا کبھی
محبت گزرے ایام کی لاجواب تھی
انمول ہو گیا گلے کی زینت بن کر اس کے
قیمت اس اک رخآم کی لاجواب تھی
ائے تھے میرے سنگ وہ بھی غم منانے
رفاقت فلک کے غمام کی لاجواب تھی
لپٹا رہا اس کے تصور سے خیال قمر
چاہت ہمارے بھی احترام کی لاجواب تھی
راجہ اکرام قمر