راجا اکرام قمر

شاعر

تعارف شاعری

رات ہاتھوں میں جام ہوتا ہے

رات ہاتھوں میں جام ہوتا ہے
تصوراتی کلام ہوتا ہے
اپ اک چاند کی طرح ٹھہرے
دور ہی سے سلام ہوتا ہے
وہ جنہیں دیکھتے تھے روز صبح
اب تو یہ بھی حرام ہوتا ہے
مجھ کو محسوس یہ ہوا اکثر
ائینہ ہم کلام ہوتا ہے
شہر میں اج قمر لیلی کے
مجنوں ہی بدنام ہوتا ہے

راجہ اکرام قمر