راجا اکرام قمر

شاعر

تعارف شاعری

روتا ہے چمن میں ہر سحر بلبل تڑپتے ہوئے

ہر: مستفعلن مستفعلن مستفعلن
ردیف: ہوئے
ہم قافیہ: تڑپتے، سمیٹتے، جلاتے، سنبھالتے، جلائے، دیکھتے، بہاتے، مٹاتے

روتا ہے چمن میں ہر سحر بلبل تڑپتے ہوئے
کیا جانے کوئی دردِ گل کانٹے سمیٹتے ہوئے
یہ دل بھی کیا کرے اب یاد کے موسم میں
جلتا رہا ہے تنہا خود کو جلاتے ہوئے
سوچا نہ تھا جدائی یوں روح تک اترے گی
ہم ٹوٹتے گئے ہیں خود کو سنبھالتے ہوئے
وہ وعدے، وہ قسمیں، وہ خوابِ نیم شب
سب چھوٹ گئے خیالوں میں دل کو جلائے ہوئے
خاموشیوں نے اوڑھ لی ہیں سب صدائیں اب
ہم بولتے نہیں ہیں، آنسو بہاتے ہوئے
میں اپنے ہاتھوں کی لکیروں سے، قمر
تکتا رہا ہوں عمر بھر اُس کو جاتے ہوئے

راجہ اکرام قمر