حقیقت عشق کو کرے اشکار صدائے حسین
درود ہے ال نبی پر اور کرتا ہوں ثنائےحسین
ٹھہر گیا تھا سمے جو کٹا سر شہزادے کا
زمین کربلا بھی بلک اٹھی کے ہائے حسین
اہل بہشت! سب تیار تھے ان کے استقبال کو
زمین پر ا کر جو سجدہ جبیں ہوئے حسین
جو کٹتی ہے حق کے لیے گردن تو کٹنے دو
گونجتی ہے اج بھی ہر طرف نوائے حسین
وقت کو پھر ہے اج ابن حیدر کی تلاش قمر
یزید تو ہیں بہت، مگر کہاں سے ائے حسین
راجہ اکرام قمر