صبح کی کرن شرماتے ہوئے جب
آدھے کھلے دروازے سے مسکراتی ہے
باد صبح پہنیے اویزے شبنم کے
میرے گھر کی چوکھٹ پر جب اتی ہے
تمہیں موجود نہ پاکر اس گھر میں پھر
خرگوشی میں اہستہ سے تمہیں پکارتی ہے
اداس سمے کی سماعت چپ چاپ
میری روح میں پھر اتر جاتی ہے
کچھ یوں پھر ہر صبح "جیت" میری
تیرے "قمر" کو اداس کر جاتی ہے
راجہ اکرام قمر