سچ بولنے والوں کو سولی پر چڑھانے کیلئے
یہ شہر آباد کیا گیا ہے جھوٹ بسانے کیلئے
منصب کے لئے ضمیریں گروی رکھی گئی ہیں یہاں
عدل و انصاف خریدے گئے صرف کرسی بچانے کیلئے
چہرے سب کے نقاب میں چھپائے ہوئے ارادے
یہ لوگ آئے ہیں دلوں کو جلانے کیلئے
وعدے وقت کی کتاب میں دفن ہیں، بس لفظ رہ گئے
ہر قول لکھا گیا ہے دل بہلانے کیلئے
خاموشی عبادت ہے، سچائی جرم ہے یہاں
یہ زمانہ بن گیا ہے سر جھکانے کیلئے
تاریخ لکھے گی یہ باب نصاب میں نصیباً
ایک سبق عبرت ہی ہوگا بس پڑھانے کیلئے
قمرؔ یہ شہر یاد رکھا جائے گا زمانے کے نام
انصاف و وفا کی آخری شمع بس جلانے کیلئے
راجا اکرام قمر