طلب دیدار یار، لہجے میں ضرور شیریں ہوگی
ذرا سوچ گفتگو طور کس قدر حسیں ہو کے
بس اک جھلک اور ہوش و حواس کھو دینا
نور سے روشن گئی کلیم کی جبیں ہوگی
مسافت مقام یار کٹھن بھی ہو تو کیا ہے
جستجو ہو ایسی تو منزل پہاڑوں کی قریں ہوگی
کہکشاں نے سجایا رستہ پھر اک بار خاطر محبوب
عاشق و محبوب کی ملاقات یہ بھی ہوئی دل نشیں ہوگی
جو پہنچ سکے تیری اوج کو وہ پر کہاں
خیال قمر کو بھی خدا قسم ایسی سوچ نہیں ہوگی
راجہ اکرام قمر