تیرے پاس ! محفل، مسرتیں، شوخیاں، رعنائیاں، دور سہانے میرے پاس ! اکیلا پن، چشم تر، اداسیاں، تنہائیاں، وسوسے انجانے پرسکون تھا بظاہر، اندر اک تلاطم لگا وہ شخص خود سے ہر دم مجھے برہم لگا
راجہ اکرام قمر