راجا اکرام قمر

شاعر

تعارف شاعری

تم سے بچھڑ کر وحشتوں کا آئینہ ہو گیا

تم سے بچھڑ کر وحشتوں کا آئینہ ہو گیا
دل ہر اک بے نام صدمے کا نشانہ ہو گیا
یاد کی بارش میں بھیگے زخم ہنستے ہی رہے
تیرا جانا زندگی کا ایک قصہ ہو گیا
خواب سب ٹوٹے تو آنکھوں میں عجب سناٹا تھا
رات بھر دل بے بسی کا کارخانہ ہو گیا
ایک پل میں چھن گئی دنیا، بدل سا ہی گیا
جو کبھی میرا تھا وہی اجنبی سا ہو گیا
تجھ سے منسوب تھی جو ہر ایک دعا کی روشنی
دور جا کر وہی رشتہ بے وفا ہو گیا
خامشی نے اوڑھ لی جب ہجر کی کالی ردا
ہر سخن سینے میں اک چیختا نغمہ ہو گیا
ہم نے ہر درد کو چہرے پہ سجا کر رکھا
تبسم بھی ترے بعد اک بلا ہو گیا
تنہائی نے لکھ دی تقدیر آنکھوں کے لیے
ہر نظر میں ہجر کا ہی تذکرہ ہو گیا
دل نے کب مانا کہ یہ سب عارضی سا دکھ ہے
وقت گزرا تو یہی دکھ مستقل سا ہو گیا
قمرؔ اب کس سے کہو گے دل کا یہ بکھرا ہوا حال
عشق میں جینا بھی اک وحشی قرینہ ہو گیا

راجہ اکرام قمر