تیرے رخِ زیبا کی قسم، حسنِ ازل ہو تم
فرصت میں خدا نے جو بنایا، وہ کمال ہو تم
دیکھوں تو ٹھہر جائے نظر، سانس بھی الجھے
اک لمحۂ حیرت کا رکا ہوا خیال ہو تم
آنکھوں میں اتر کر بھی مکمل نہیں ہوتے
خوابوں میں سجے کوئی نادیدہ سوال ہو تم
لفظوں میں سماؤ تو معانی بدلیں سب
خاموشی میں ڈھلتا ہوا اک خیال ہو تم
دل ہار کے بیٹھا ہوں زمانے کی گلی میں
جیتے ہوئے ہارے کی بس اک ڈھال ہو تم
چھو لوں تو بکھر جائے یقیں کی ساری دنیا
دیکھوں تو حقیقت میں بھی رمزِ کمال ہو تم
قمرؔ یہ تخیل ہے، سچ ہو کہ فسانہ
جو عمر کے ساتھ قائم رہے، وہی جمال ہو تم
راجا اکرام قمر