ذرا سوچو۔۔۔۔!
کہ سوچ کی ہوتی آواز
اور اس آواز کے الفاظ بےشمار
ان الفاظوں میں درد ہوتا
اور اس درد میں اک انجانی پکار
ذرا سوچو۔۔۔۔۔!
اس وقت وصال کی سوچ کو
اور اس بیچاری سوچ کی آہ و پکار
ان الفاظوں کا تڑپنا اور تڑپنا
اور پھر سسک کر مرنا بے اختیار
ذرا سوچو۔۔۔۔!
آنکھوں میں آنسوؤں کے سمندر کی
ابھرتی لہروں کی چیخ و پکار
یار سے بچھڑنا تو محال تھا
مگر کب تھا کسی کے اختیار
موت سے کہہ دیں گے کہ اب ناراضگی نہیں قمر
یار سے ملنے کی خاطر اب یہ زندگی بھی نہیں قمر
ذرا سوچو ۔۔۔۔۔!
ملیں گے جب ہم پھر دوبارہ
اس دنیا کے اس پار
جہاں غم نہ جدائی کا ہوگا
اور نہ دردوں کی بھرمار
نا نالے اس دل کے ہونگے
نا کوئی تیر جگر کے پار
خمار ہی خمار ہو گا ہر طرح
اور ہر چیز بس خوشگوار
روپ تیرا سوہنا ہوگا، اور خوشبو
بکھیرتی ہوئی ترے جسم کی مہکار
مجھے اس جہاں میں پانا ہے تجھے قمر
تو ہو ہی نہیں سکتا کسی اور کا طلبگار
راجہ اکرام قمر