وہ راہ کہ جس کے موڑ پہ بیٹھا قمر برسوں
گزرا نہ کوئی بھی وہاں سے مگر برسوں
بنا تمہارے زندگی لگی مختصر برسوں
ناز ضبط رہا، رہی انکھیں تر برسوں
میرے انگن میں کھڑے چپ چاپ پیپل نے
ہوتے دیکھا میری دعاؤں کو بےاثر برسوں
اپنی بوجھل شام کی اداس ہوا سے
پوچھتا رہا میں تیری خبر برسوں
سناٹا تھا، تیرگی تھی اور بس یاد تیری
کرتے رہے ہم بھی انتظار سحر برسوں
سنتے تھے دعا قبول ہوتی ہے ہر اک کی وہاں
باندھے ہم نے بھی دھاگے اس شجر پر برسوں
ائے گا بس ابھی، اسی اس پر
زندگی کو کہا، ایک لمحہ ٹھہر برسوں
حسین تھا، بس ذرا بیگانہ وفا تھا وہ
اک شخص جس نے رکھا در بدر برسوں
اتش عشق ہے تو یادیں چنگاریاں اس کی
رہے دھواں، چاہے برسے ابر برسوں
تپش ھجر میں نہ کندن بنا قبر نہ راکھ
سزا ہی ملی ایسی، نہ ہوئی سر پرسوں
راجہ اکرام قمر