راجا اکرام قمر

شاعر

تعارف شاعری

وہ چاردن

ماہ ساون کے تھے وہ دن چار
کتنے حسین، خوشبو میں بسے خوشگوار
بس اچانک ہی تم
جب گھر میں میرے تھے
تکتا ہی رہا میں تمہیں
انکھوں میں میری سماے تھے
خوشی سے گنگنا رہا تھا میں
بس ادھر ادھر دوڑے جا رہا تھا میں
کیسے بھول پاؤں گا وہ دن
کیسا بچپنا تھا، کیسی سادگی
خدا سے تم کو مانگنے کے بدلے
میں نے بارش کی دعا مانگ لی
وہ دن ہے اور اج کا یہ دن
جب بھی ماہ ساون اتا ہے
جب بارش زور کی پرستی ہے
جب دل درد سے کرلاتا ہے
جب سینہ پھٹا پھٹا جاتا ہے
اک دعا ہوں قمرمیں خدا سے مانگتا
تم خوش رہو سدا، مرے کل کا کیا پتا

راجہ اکرام قمر