سنا ہے چمن کا گلاب تھی وہ لڑکی
سنا ہے فلک کا مہتاب تھی وہ لڑکی
سنا ہے جب وه مسکراتی تھی
چاکور چاند کو چھوڑ کر اسکی طرف اڑتا تھا
سنا ہے اس کے شہر میں ایک لڑکا
اسے بے پناہ چاہتا تھا اس پہ مرتا تھا
سنا ہے تھوڑی سنگدل تھی وہ لڑکی
سنا ہے اس لڑکے کو ملی ایک پل تھی وہ لڑکی
سنا ہے اجاڑ بیٹھا ہے خود کو وہ لڑکا
بے خبر رہتا ہے دنیا سے اس کے شہر میں وہ لڑکا
سنا ہے ہر شب وہ چاند کو تکتا رہتا ہے
پکارتا ہے اسکو ہر رات کی سحر میں وہ لڑکا
سنا ہے اس شہر میں فاصلے پر ہیں اجڑے مزار دو
سنا ہے ان مزاروں میں رہتی ہیں روحیں بیقرار دو
سنا ہے بھول گئے ہیں اب لوگ داستاں ان کی
سنا ہے ہوتی نہیں محفل میں ذکر بیاں ان کی
راجہ اکرام قمر