یہ عشق اگر سرِ محفل صدا نہ کرے
تو اپنی آگ سے خود کو جدا نہ کرے
جو دل پہ آئے وہ چہرے تک نہ پائے
محبت آئینہ ہے، تماشا نہ کرے
بدن اگر جل بھی اٹھے، تو رہے بے آواز
یہ آگ اپنا کبھی شور برپا نہ کرے
اگر جدا بھی کرے تو یوں کرے، اے خدا
کہ یاد دل میں رہے، راستہ نہ کرے
جنوں وہ ہے جو انا کو مٹا کے رکھ دے
خرد وہاں کوئی آ کر تقاضا نہ کرے
قمرؔ اسی میں ہے، شاید نجاتِ عاشق
وہ ٹوٹ جائے مگر بددعا نہ کرے
راجا اکرام قمر