راجا اکرام قمر

شاعر

تعارف شاعری

یہ کس کی چشمِ کرم سے ملا عذاب اچانک

یہ کس کی چشمِ کرم سے ملا عذاب اچانک
لُٹا جینے کا سارا ہی شباب اچانک
وہ جس کا لمس دعاؤں کا روپ دھارتا تھا
بکھر گیا وہی خوش رنگ گلاب اچانک
خبر جو آئی تو آنکھوں سے خواب روٹھ گئے
الٹ گئی ورقِ ، عمر کی کتاب اچانک
نہ ہجر کی کوئی حد تھی، نہ وصل کی امید
تمام ہو گیا جینے کا ایک باب اچانک
وہ جن کے دم سے مہکتا تھا موسمِ ہستی
بچھڑ گئے مرے سارے احباب اچانک
قمرؔ یہ عشق کی رسموں کا فیصلہ ٹھہرا
کہ مر گئے دلِ مضطر کے خواب اچانک

راجا اکرام قمر