راجا اکرام قمر

شاعر

تعارف شاعری

یوں ان کا بننا سنورنا زمانے کے لیے ہے

یوں ان کا بننا سنورنا زمانے کے لیے ہے
اس دل ناتوا ں کو جلانے کے لیے ہے
جو تم ہو وہ تم ہی یا پھر خدا جانے
سر ائینہ کا حسن بس دکھانے کے لیے ہے
وہ مسکرا کر ملنا ان کا غیروں سے
محفل میں کیا ہم کو ستانے کے لیے ہے
بے خوف و خطر اؤ تم گلی میں ہماری
یہاں ہر بام کھلا تمہیں بلانے کے لیے ہے
اب جو ائے ہو مزار پر ہمارے تو سن لینا
یہ داستان عبرت تمہیں سنانے کے لیے ہے
قمر جو لکھتا ہے سب تمہارے لیے ہے
اکیلے میں تمہارے گنگنانے کے لیے ہے

راجہ اکرام قمر