اک آہ کی آری سے ہو گَرْدُوں کا جگر چاک
سو راز ہوں، کردیتی ہے مستی کی نظر، چاک
برسوں کی ریاضت سے ملِے جُبّہ و دستار
بس عشق کی آمد تھی کہ تھا علم و ہنر چاک
انسان کی فطرت میں ہے تخریب کا پہلو
ہو سکتے تو کر دیتا ابھی شمس و قمر چاک
صحرا ہوں کہ گلشن ہوں، وہ باطن میں ہیں یکساں
ملتی ہے وہی شے ، جو کریں ریگ و گہر چاک
کمہار کے ہاتھوں سے اخذ کر کے محبت
کوزہ تھا کہ رقصاں رہا قدموں تلے دھر چاک
راشد ڈوگر