راشد ڈوگر

شاعر

تعارف شاعری

اک آہ کی آری سے ہو گَرْدُوں کا جگر چاک

اک آہ کی آری سے ہو گَرْدُوں کا جگر چاک
سو راز ہوں، کردیتی ہے مستی کی نظر، چاک
برسوں کی ریاضت سے ملِے جُبّہ و دستار
بس عشق کی آمد تھی کہ تھا علم و ہنر چاک
انسان کی فطرت میں ہے تخریب کا پہلو
ہو سکتے تو کر دیتا ابھی شمس و قمر چاک
صحرا ہوں کہ گلشن ہوں، وہ باطن میں ہیں یکساں
ملتی ہے وہی شے ، جو کریں ریگ و گہر چاک
کمہار کے ہاتھوں سے اخذ کر کے محبت
کوزہ تھا کہ رقصاں رہا قدموں تلے دھر چاک

راشد ڈوگر