راشد ڈوگر

شاعر

تعارف شاعری

‏اپنے غم کیا، دوسروں کے دکھ ستاتے ہیں مجھے

‏اپنے غم کیا، دوسروں کے دکھ ستاتے ہیں مجھے
‏سُکھ سے سونا چاہتا ہوں، وہ جگاتے ہیں مجھے
‏دھند ہے اک درمیاں حائل کئی دنیاوں کے
‏جن میں پنہاں راستے اکثر بلاتے ہیں مجھے
‏پاس میرے پھرتے چہرے اجنبی سمجھیں مجھے
‏دُور وقتوں کے پیارے ملنے آتے ہیں مجھے
‏صدیوں پہلے گزرے لمحے گھیر لیتے ہیں مجھے
‏لمحوں پہلے سوچے قصے چھوڑ جاتے ہیں مجھے
‏کوئی آنکھیں ہر سمے میرے تخیل میں رہیں
‏خواب چہرے پار کے نغمے سناتے ہیں مجھے
‏شہر میں بستا ہوں پر باطن پرانا گاوں ہے
‏خشت و پتھر میں دبے کھلیاں بلاتے ہیں مجھے
‏میرا مرشد عشق ہے انجام کا خطرہ نہیں
‏رونا اِس دنیا کا ہے، مِل کر جھکاتے ہیں مجھے

راشد ڈوگر