راشد ڈوگر

شاعر

تعارف شاعری

دردِ دل کی دوا نہیں ملتی

دردِ دل کی دوا نہیں ملتی
تیرے دل میں جگہ نہیں ملتی
میں نے ڈھونڈا چراغ لے کے اسے
اس جہاں میں وفا نہیں ملتی
جن کی جانے سے جان جاتی تھی
کیسے آئیں، وجہ نہیں ملتی
منصفوں کو خراج ملتا ہے
مجرموں کو سزا نہیں ملتی
آتے آتے ہی ہوش آتا ہے
زِیرکی پل میں آ نہیں ملتی
آپ سے کوئی آس کیونکر ہو؟
آپ سے تو دعا نہیں ملتی

راشد ڈوگر