جھونکے ہو تم تو دل کے بھی آنگن سے ہو چلو
آنسو کی طرح آنکھوں سے، دامن سے ہو چلو
حرف و سخن مرا ہے مرے دل کا آئینہ
لفظوں کو پڑھ کے درد کے درپن سے ہو چلو
آساں نہیں ہجوم میں تنہائی کا سفر
چلتے چلو کہ خار کے گلشن سے ہو چلو
پہنچو گے یوں نہ یار کے دامن تلک کبھی
چلتے ہو اُس کے گھر کو تو تن من سے ہو چلو
میرے جنوں کا بوجھ اٹھا پاؤ گے نہ تم
مجھ سے ملے بغیر ہی خِرمن سے ہو چلو
جاتے ہو مجھ سے دُور تو رہ جاؤ بن کے یاد
آتے ہو میرے پاس تو دھڑکن سے ہو چلو
راشد ڈوگر