راشد ڈوگر

شاعر

تعارف شاعری

‏کہنے کو چند ہاتھ سے بڑھ کر نہیں ہُوں مَیں

‏کہنے کو چند ہاتھ سے بڑھ کر نہیں ہُوں مَیں
‏باطن میں کائنات سے کم تر نہیں ہُوں مَیں
‏اے آفتاب ! گرمئِ عشقِ حبیب میں
‏تُجھ سے سِوا ہوں، تیرے برابر نہیں ہُوں مَیں
‏تاریکیوں کے درمیاں جلتا ہوا چراغ
‏راتوں کی داستان ہوں، دن بھر نہیں ہُوں مَیں
‏اپنے ہی حُسن کے لئے خود ہی ہُوا حجاب
‏جانے سے جاودان ہوں، ہو کر نہیں ہُوں مَیں
‏دیکھے یہ صبح و شام، ہزاروں طرح کے رنگ
‏افسوس! اپنی آنکھ کا منظر نہیں ہُوں مَیں
‏دل میں بسا کے اُن کو ، اُنہی کو دیا یہ دل
‏ظاہر ضرور ہُوں مگر اندر نہیں ہُوں مَیں

راشد ڈوگر