تُحفہ مجھ کو ملا ہے خوشبُو کا
ہاتھ آیا چراغ جادُو کا
جس کو چھوتے ہی روشنی سی ہو
جیسے شیشے میں چاندنی سی ہو
دینے والے کا پیار ہو جیسے
اک مسلسل خمار ہو جیسے
جو خیالوں کو برق رو کر دے
اور صدیوں کو سامنے دھر دے
کوئی خوشبو جو سونگھتا ہُوں میں
ہو کے بے خود ، یہ سوچتا ہُوں میں
ایک خوشبو تھی بند کُرتے میں
روشنی لوٹ آئی لمحے میں
کوئی تو پھول سا سراپا ہے
عطر جس کا جہاں میں پھیلا ہے
راشد ڈوگر