راشد ڈوگر

شاعر

تعارف شاعری

‏کسی بچھڑ جانے والے کے نام

‏مجھے یاد ہے وہ ملاقات پہلی
‏جو فرمائی تُو نے وہی بات پہلی
‏"نرے خام ہو اور پر تولتے ہو
‏کہ ساحل سے موج و بھنور تولتے ہو
‏کتابوں میں چاہت کی بُو سونگھتے ہو
‏کناروں پہ لعل و گہر ڈھونڈتے ہو
‏ابھی عشق کے تم نے قصے سُنے ہیں
‏ابھی راہ سے پھُول پتّے چُنے ہیں
‏رموزِ وفا سے شناسا نہیں ہو
‏تماشائی ہو پر تماشا نہیں ہو
‏چلے جاؤ واپس کہ عاشق نہیں تم
‏تجسس سے پُر اور حیرت میں ہو گم
‏چلے آنا تب تم کو ٹھوکر لگی جب
‏چلے آنا جب دل پہ دستک ہوئی تب “
‏چلا آیا میں جو ابھی بے سبب تھا
‏یونہی منحصر گردشِ روز و شب تھا
‏اسی کشمکش میں گزرتے گئے دن
‏کہ جیون کے گیہوں کترتے گئے دن
‏کسی دن اچانک کہیں جا گرا میں
‏اٹھا تو کسی اور عالم میں تھا میں
‏وہاں اپنی سرحد سے باہر کھڑا تھا
‏میں کون اور کیوں ہُوں، کھڑا سوچتا تھا
‏ جہاں تھم گیا تھا، زماں تھم گیا تھا
‏کسی ایک نقطے پہ دل جم گیا تھا
‏زمین و زمان و زمن کس لئے ہیں؟
‏یہ گہوارے ، سہرے ، کفن ، کس لئے ہیں؟
‏یہ سانسوں کے زہریلے پھن کس لئے ہیں؟
‏جو مرنا ہے تو سب جتن کس لئے ہیں؟
‏نگاہیں ملا کر مجھے وہ بتا دے
‏مجھے کیوں بنایا تھا سمجھا ذرا دے
‏وہ لمحات تھے سارے صدیوں پہ بھاری
‏کہ ہستی تھی دانہ تو سوچیں تھی چکّی
‏میں اپنے ہی گرداب میں آ گِرا تھا
‏جہاں کوئی کشتی نہ تھا کوئی تنکا
‏اسی جاں کنی میں کئی سال گزرے
‏کئی ماضی گزرے کئی حال گزرے
‏اچانک ہی اک رات عالم جدا تھا
‏کہ خود کو سپردِ خدا کردیا تھا
‏نگاہوں سے جیسے کہ دھند چھٹ گئی تھی
‏ہر اک شے پہ اس کی حقیقت لکھی تھی
‏وہ دنیا نئی تھی زمانہ نیا تھا
‏نیا تھا پرانا، پرانا نیا تھا
‏نئی چال سے تب روانہ ہوا میں
‏اسی حال میں آکے تم سے ملا میں
‏اسی روز سے میرے ہمراز ٹھہرے
‏کہ استاد ٹھہرے تو دم ساز ٹھہرے
‏تھا انگلی پکڑ پھر سے چلنا سکھایا
‏نئے آسمانوں پہ اڑنا سکھایا
‏ہو اب تم کسی اور عالم کے باسی
‏کسی طَور جاتی نہیں یہ اداسی
‏تصور میں لیکن ہو تم ساتھ میرے
‏مرے دل کو رکھے تری یاد گھیرے
‏مرے پاس تیری نشانی یہی ہے
‏کہانی نہیں یہ، کہانی یہی ہے

راشد ڈوگر