راشد ڈوگر

شاعر

تعارف شاعری

محبت

‏سلسلہ محبت کا
‏آرزو سے قائم ہے
‏رابطہ محبت کی
‏اک دلیل ہوتا ہے
‏ پھر یہ رابطہ چاہے
‏گفتگو کا نہ بھی ہو
‏ہاں مگر تخیل میں
‏ خوب ہوتا رہتا ہے
‏جب تلک محبت ہے
‏ یاد زندہ رہتی ہے
‏جب تلک تصور ہے
‏پریت بڑھتی رہتی ہے
‏خیال سے جو اوجھل ہو
‏ ختم وہ محبت ہے
‏یہ بھی اک حقیقت ہے
‏عاشقی کو دنیا میں
‏عیب جانا جاتا ہے
‏ اس لئے تو اکثر ہی
‏پیار چاہے ہو بھی تو
‏ صاف مُکر جاتے ہیں
‏مان جانے والوں کو
‏ لوگ چھوڑ دیتے ہیں
‏پیار کرنے والوں کو
‏توڑ پھوڑ دیتے ہیں
‏مجھ سے گر جو پوچھو تو
‏ پیار ایک ہوّا ہے
‏ہاتھ جو نہیں آتا
‏ روپ جو بدلتا ہے

راشد ڈوگر