راشد ڈوگر

شاعر

تعارف شاعری

مصور و تصویر

‏بادلوں سے پرے ایک تصویر ہے
‏اُن خدوخال کی دل پہ تحریر ہے
‏جو سراپائے ناز و ادا، دوستو
‏جو تَنَزُّل سے نا آشنا، دوستو
‏جس کی آنکھوں میں خوابوں کے رنگیں دیے
‏جس کے ہونٹوں کو چھو کر ہنسی بھی ہنسے
‏جس کی زلفوں کی لہروں میں دل غوطہ زن
‏جس کی روشن جبیں، جیسے کوئی کرن
‏یہ جو تصویر ہے، گویا تقدیر ہے
‏سارے رنج و الم کی یہ اکسیر ہے
‏جو نگاہوں کا رزق اور دل کا سُکوں
‏جو فنونِ لطیفہ کا سارا فُسُوں
‏ایسی تصویر کا ہے مُصَوَّر کوئی
‏ہے تَصَوُّر، مُصَوَّر کے ہَم سَر کوئی ؟

راشد ڈوگر