راشد ڈوگر

شاعر

تعارف شاعری

نعت

‏ایک دن زمانے نے
‏مجھ کو روکا اور بولا
‏ رب نے قسم کھائی ہے
‏سارے تم خسارے میں
‏تیرے جیسے کھربوں ہیں
‏جو جہاں میں آئے تھے
‏جو یہاں ہی رہتے تھے
‏تیرے جیسی آنکھیں تھیں
‏تیرے جیسے سپنے تھے
‏تیرے دل سی دھڑکن تھی
‏تیرے جیسی سوچیں تھیں
‏سب سے میں نے نمٹا ہے
‏سب کو میں نے نِگلا ہے
‏تجھ کو بھی مٹا دوں گا
‏زیست کی سزا دوں گا "
‏جب وہ کہہ چکا سب یہ
‏بولا میں کہ "سُن اب یہ
‏میری اُنﷺ سے نسبت ہے
‏تجھ سے ماورا ہیں جوﷺ
‏میرا آسرا ہیں وہﷺ"
‏سُن کے یہ زماں بولا
‏"میں بھی تو انہیﷺ کا ہوں
‏جنﷺ کا امتی ہے تو
‏آؤ مل کے بیٹھیں ہم
‏اور کرلیں باتیں ہم
‏اُنﷺ کے نوری چہرے کی
‏جس سے میں بھی روشن ہوں
‏تیرا دل بھی جھلمل ہے

راشد ڈوگر