راشد ڈوگر

شاعر

تعارف شاعری

پہلے شدت سے وار کرتا ہے

پہلے شدت سے وار کرتا ہے
پھر وہ ٹکڑے شمار کرتا ہے
اپنے دل کو وہ چُور پاتا ہے
ان سے آنکھیں جو چار کرتا ہے
آپ کوشش سے کہہ نہیں سکتے
شعر خود ہی پکار کرتا ہے
مرد سہتا ہے مار دنیا کی
اپنے کنبے سے پیار کرتا ہے
اپنے پردے کو آج کا انساں
آپ ہی تار تار کرتا ہے
اک تصور جو میری آنکھوں کو
بار بار اشک بار کرتا ہے
وہ کہِیں جا کے بُھول بیٹھے ہیں
یہ یہاں انتظار کرتا ہے
شب کے تارے چلے ہیں غاروں کو
دن کا سورج ابھار کرتا ہے

راشد ڈوگر