سب کے باہر جگ مگ جگ مگ،اندر گھور اندھیرا ہے
سب کی راتیں چاند سے خالی، سب کا ماند سویرا ہے
سب کو دُکھ کے سانپ نے سونگھا، سب کے سینے گھائل ہیں
سب کے سُکھ پرلوک سدھارے، سب کے ساتھ لٹیرا ہے
سب کی جِیب پہ کڑوا کھاجا، سب کا بھوجن باسی ہے
سب کے تن پر مُونج کے کپڑے، سب کا گُٹھن بسیرا ہے
سب کی سانسیں اکھڑی اکھڑی، سب کی نیندیں اجڑی ہیں
سب بِسْواس میں کچے برتن، سب کو شک نے گھیرا ہے
سب کو سچ اور جھوٹ کے بِھیتر، کوئی انتر نہ سوجھے
سب کی آنکھیں رنگ کی اندھی، ہر کوئی مُوت مچھیرا ہے
سب کو سب ہی دُشمن سمجھیں، سب کے ساجن روٹھ گئے
سب ہی سب کو بِین سنائیں، ہر کوئی سانپ سپیرا ہے
سب کی سب ہی جانیں راشد ، تم بن کر انجان رہو
پیچھے مِیت کے چلتے جاؤ، اُس کا رستہ، تیرا ہے
راشد ڈوگر