راشد ڈوگر

شاعر

تعارف شاعری

زندگانی، کہ دُکھ مسلسل ہے

زندگانی، کہ دُکھ مسلسل ہے
اک تسلسُل ہے اور پل پل ہے
سانس آتی ہے اور جاتی ہے
چند پھونکوں کی ساری ہلچل ہے
ہر کوئی دوسرے کا قیدی ہے
ایک اوجھل تو ایک بوجھل ہے
ہر کوئی بھِیڑ میں اکیلا ہے
اپنی خواہش ہے اپنی دَلدَل ہے
یہ جو روشن ہے شہر راتوں میں
در حقیقت یہ ایک جنگل ہے
یہ بھی اعجاز ہے محبت کا
ہم کہ صحرا ہیں ، آنکھ جل تھل ہے
میں نہ بیٹھوں گا پاس راشد کے
لوگ کہتے ہیں وہ تو پاگل ہے

راشد ڈوگر