سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

آہ کی ضرب سے کب قُفلِ فنا ٹُوٹتا ہے!

آہ کی ضرب سے کب قُفلِ فنا ٹُوٹتا ہے!
ایسے جھونکوں سے تو بس برگِ صدا ٹُوٹتا ہے
کیسا رشتہ ہے مِرا! خواب کے گُلدانوں سے
جو پٹختا ہوں پُرانا تو نیا ٹُوٹتا ہے
ٹھیک ہوں مَیں تو یہ تاریک دراڑیں کیسی؟
نقش در نقش پسِ آئنہ کیا ٹُوٹتا ہے؟
اتنا بکھراؤ تو ممکن نہیں ہم دونوں کا!
لازماً کوئی ہمارے بھی سوا ٹُوٹتا ہے
سامنے گُھورتی دلدل ہے ، عقب میں سائے
جانے اب راہ نکلتی کہ عصا ٹُوٹتا ہے!
کیسا یکجا ہوں میں ان بکھرے ہوئے لوگوں میں!
کوئی تو ہے جو کہِیں میری جگہ ٹُوٹتا ہے!

سعید شارق