آنکھیں اپنی تھیں، غم اپنا تھا ، نمی اپنی تھی
ہونٹ جس کےبھی تھے لیکن وہ ہنسی اپنی تھی
یونہی لڑتے رہے لمحوں کی کمی بیشی پر
وقت اپنا تھا کسی کا نہ گھڑی اپنی تھی
پھر مجھے گھیر لیا اجنبی آوازوں نے
اور اس بار ہر آواز مری اپنی تھی
اپنی اپنی نظر آتی تھی وہ کھڑکی لیکن
کوئی گھر اپنا رہا تھا نہ گلی اپنی تھی
تیرے ہونے سے زیادہ تھا نہ ہونا میرا
اب یہ جانا ہے کہ مجھ کو تو کمی اپنی تھی
ایسی دُنیا میں مکاں کون بناتا ، شارقؔ
جو پرائی تھی کبھی اور کبھی اپنی تھی
سعید شارق