سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

اچانک آنکھ کُھلتی ہے

اچانک آنکھ کُھلتی ہے
میں آنکھیں ملتا بستر سے نکلتا ہوں
تو ٹھنڈے فرش کو چُھوتے ہی اک مشفق صدا کانوں سے ٹکراتی ہے:
"پُتّر! جُتیاں لائی کِن!
تے مفلر نال کنّاں کی تے نکّے کی لپیٹی باھر اچھیاں۔۔۔
کافی سردی یے۔۔۔
کُرے بیمار نا ہوئی جُلیں!"
میں "جی! ابّا جی!" کہہ کے
جلدی جلدی ہاتھ مُنہ دھو، ناشتہ کر کے جونہی گھر سے نکلنے لگتا ہوں
تو کوئی سرگوشی
سماعت گہ پہ دستک دینے لگتی ہے:
"او ماڑے پولے پُترا! بیگ، ہیلمٹ، فون، کاغذ چیک کری کِن!
کول یے؟
پُلیا تے نئیں ایں؟"
میں "جی ابّا جی! سب کُج کول آ " کہتا ہوں تو بُجھتی ہوئی آنکھوں میں اطمینان کا تارہ چمکتا ہے۔۔
میں جاتے جاتے
اک کمزور بُوڑھے ہاتھ میں اپنا توانا ہاتھ رکھتا ہوں
تو پوروں میں اسی مانوس بوسے کی نمی محسوس ہوتی ہے
جو پچھلے تیس برسوں سے لہو میں دوڑتا ہے۔۔۔
میں دروازے پہ آ کر
دُعاوں کی بھری گٹھڑی اُٹھانے پیچھے مُڑتا ہوں۔۔۔
یکایک چِھینک آتی ہے
میں نم آلُود آنکھیں کھولتا ہوں
اور خُود کو بانہیں کھولے، خالی بستر گُھورتے حیرت سے تکتا ہوں
اچانک آنکھ کُھلتی ہے۔۔۔۔

سعید شارق