سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

عجب نہیں کہ برس جائے ابر چھائے بغیر

عجب نہیں کہ برس جائے ابر چھائے بغیر
رلا بھی سکتا ہوں تجھ کو میں یاد آئے بغیر
کہانی سنتے ہوئے لوگ راکھ ہوتے گئے
الاؤ جلتا رہا لکڑیاں جلائے بغیر
وہ شخص بھی مجھے بالکل کہاں بدل پایا
نئی حویلی بنائی کھنڈر کو ڈھائے بغیر
کوئی اداس مکاں تنگ پڑنے لگتا ہے
سو اب گلی سے گزرتا ہوں گنگنائے بغیر
یہ اب کھلا کہ میں سایہ ہوں اور کچھ بھی نہیں
گزر گیا ہے وہ آخر مجھے ہٹائے بغیر
نہ جانے کس لیے رہ رہ کے ہاتھ ملتا ہوں
کچھ اور پائے بغیر اور کچھ گنوائے بغیر

سعید شارق