سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

اک اک آنسو فقط نذرِ محرّم کر رہا ہوں

اک اک آنسو فقط نذرِ محرّم کر رہا ہوں
غمو! ہٹ جاؤ! میں شبّیر کا غم کر رہا ہوں
مرے ہر لفظ پر زنجیرِ گریہ کے نشاں ہیں
عزاداری کہاں ہوتی ہے! تاہم، کر رہا ہوں
زبان و لب کو سیرابی کی خواہش ہو بھی کیسے!
طلب کم ہو رہی ہے سو رسٙد کم کر رہا ہوں
بنا لی چشم سے دل تک عجب کاریز میں نے
اور اب اک دشت کو پانی فراہم کر رہا ہوں
بچھا ہے مجھ میں جو فرشِ عزا، اشکوں سے تر ہے
بظاہر چُپ ہوں اور اندر سے ماتم کر رہا ہوں
کبھی سر سبز بھی ہو جائے گا یہ دشت، شارق
ابھی تو دل کی سُوکھی ریت کو نم کر رہا ہوں

سعید شارق