سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

اُس بَس میں ہوں جِس کی کوئی کھِڑکی نہیں کُھلتی

اُس بَس میں ہوں جِس کی کوئی کھِڑکی نہیں کُھلتی
رَش اتنا زِیادہ ہے، سَڑک ہی نہیں کُھلتی!
یُوں بھینچ کے رکھّا ہے تِری یاد کا سِکّہ
اَب کھولنا چاہوں بھی تو مُٹّھی نہیں کھُلتی
کھُل جاتا ہے آنکھوں میں اَچانک کوئی اَلبم
لَیکن کوئی تَصویر بھی پُوری نہیں کھُلتی
کِس طرح نِکالوں مَیں نئی شام کا جوڑا!
اَلماری بضِد ہے: نہیں کھُلتی! نہیں کھُلتی!
کُچھ ایسے لگائی ہے گِرہ دَستِ سحر نے
مُجھ سے بھی مِرے خواب کی گٹھڑی نہیں کھُلتی
آنچَل سے ڈھکا رَہتا ہے مَہتاب ہمیشہ
شَب کھُلتی ہے مُجھ پر مَگر اِتنی نہیں کھُلتی
باہر تو نکل آؤں مَیں زندانِ الم سے
کم بخت مِرے صبر کی رسّی نہیں کھُلتی
رَہ رَہ کے یہ کہتا ہے مِرا قُفل: مجھے کھول!
اور مَیں ہوں کہ مُجھ پر مِری چابی نہیں کھُلتی
کِس طرح بَندھائی ہے تِرے لَمس نے ڈھارس!
اَب زَخم تو کھُل جاتا ہے پَٹّی نہیں کھُلتی
مَیں گوہَرِ یَکتا ہوں عَجَب قَید میں، شارقؔ
دُنیا پہ کُھلوں کیا؟ مِری سیپی نہیں کھُلتی

سعید شارق