سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

بجز فنا، سر ِ شاخِ دوام کیا ہو گا!

بجز فنا، سر ِ شاخِ دوام کیا ہو گا!
درخت سبز ہو یا زرد فام، کیا ہو گا!
عجب ہی کیا ہے اگر ہم بھی خواب ہو جائیں!
یہ رستہ نیند بھرا ہے ، تمام کیا ہو گا!
خوشی بنی ہی نہیں ہے سو رنج کیسے بنے!
جو دن نکل نہیں پایا وہ شام کیا ہو گا!
مکیں شکستہ ہیں، دیوار و بام سوختہ ہیں
خبر نہیں سببِ انہدام کیا ہو گا
نکل تو آیا ہوں مَیں قہقہوں کے چُنگل سے
نہ جانے اب کے اُداسی کا دام کیا ہو گا

سعید شارق