دل میں اترے نہ اداسی سے بھری کہلائے
کوئی تو شام ہو ایسی جو نئی کہلائے
ایک آواز جو آنکھوں کے لیے چشمہ ہو
ایک احساس جو ہاتھوں کی چھڑی کہلائے
ہندسے سوئیاں پھر میری کلائی پہ کھنچیں
وقت دونوں کا گھڑی صرف تری کہلائے
اک نظر ہی میں اسے دیکھ لیا ہے اتنا
آنکھ خالی بھی اگر ہو تو بھری کہلائے
داستاں بنتی گئی دیو میں ڈھلتا گیا میں
اس کی خواہش تھی کہ وہ خود بھی پری کہلائے
دل میں اڑتا یہ اداسی کا پرندہ شارقؔ
شاخ لب پر کبھی بیٹھے تو ہنسی کہلائے
سعید شارق