دیوار گِرا کے دیکھتا ہوں
منظر کو ہٹا کے دیکھتا ہوں
کیا تجھ پہ یقین ہو! کہ خُود کو
اب ہاتھ لگا کے دیکھتا ہوں
ہم کیسے دکھائی دیتے اک ساتھ!
تصویریں بنا کے دیکھتا ہوں
مُمکن ہے وہ پیڑ ساتھ چل دے
کُچھ بار گھٹا کے دیکھتا ہوں
کیا اُگتا ہے کرچیوں سے، شارق
مٹّی میں دبا کے دیکھتا ہوں
سعید شارق