گھٹا بھی دھیرے دھیرے اپنے پَر پھیلا رہی ہے
بَلا کی تیرگی ہے اور مجھ میں چھا رہی ہے
کئی منظر بنے جاتے ہیں جزوِ کور چشمی
نظر کی اشتہا آنکھوں کی رونق کھا رہی ہے
بہت دن اوڑھے رکھا روشنی کے چیتھڑوں کو
اور اب اک شب مجھے اپنا بدن پہنا رہی ہے
کڑی دوپہر ہے اور حبس آلودہ ہوائیں
وہ بارش ، جو بچا رکھی تھی، اب کام آ رہی ہے
کہاں اب وہ جزیرے ، کشتیاں ، ساحل ، سمندر
فقط اک لہر ہے جو آج تک بہلا رہی ہے
جگہ دے بیٹھی تھی کمرے میں آئینے کو ، شارقؔ
سو اب تنہائی بھی میری طرح پچھتا رہی ہے
سعید شارق