گُزر نہ جائے سماعت کے سرد خانوں سے!
یہ بازگشت ، جو چِپکی ہوئی ہے کانوں سے
کھرا نہیں تھا مگر ایسا رائگاں بھی نہ تھا
وہ سکّہ ڈھونڈ کے اب لاؤں کِن خزانوں سے!
کھنچے رہیں گے لبوں پر یہ قہقہے کب تک!
یہ تِیر چُھوٹ نہ جائیں کہِیں کمانوں سے!
یہ چشمِ ابر کا پانی ، یہ نخلِ مہر کے پات
اُتر رہا ہے مِرا رزق آسمانوں سے
جو در کھُلے ہیں کبھی بند کیوں نہیں ہوتے
یہ پوچھتا ہی کہاں ہے کوئی ، مکانوں سے!
اُتار پھینکا بدن سے لباس تک ، شارقؔ
مگر یہ بوجھ کہ ہٹتا نہیں ہے شانوں سے!
سعید شارق