گُزرا ہے کیسا وقت مِری کائنات سے!
ٹکرا گیا ہے دِن مِرے اندر کی رات سے
لَوحِ نظر پہ لِکھتے ہُوئے اِک سُنہری لَفظ
کُچھ رَوشنائی گِر پڑی دِل کی دَوات سے
میرے سِوا نہیں ہے کوئی رَہ گُزارِ غَم
یہ بَرقی رو گُزرتی ہے بَس ایک دھات سے
جیسے پرندہ مار گِرائے جَہاز کو
مَیں ڈھ کے رہ گیا ہوں کِسی اُڑتی بات سے
رَوشَن رہے گی یاد کی کِرنوں سے جھونپڑی
اِک دُھوپ چھن کے آتی رہے گی قَنات سے
خاموشیوں کی بِھیڑ میں یہ ڈَولتے قدم۔۔۔
آواز گِر نہ جائے سماعت کے ہات سے
کون اپنی چھان بین کرے! وہ بھی روز روز!
مَیں تنگ پڑ چُکا ہوں اَب اپنی جہات سے
دُھلنے لگے ہیں ابرِ نِگَہ سے تمام نقش
غازہ اُتر رہا ہے رُخِ کائنات سے
ہر ہَفتہ مُجھ کو کاٹتے کَٹ جاتا ہے، سَعید
تَقسیم ہو رہا ہوں لگا تار، سات سے
سعید شارق