سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

ہر مُسافر کا ہم سفر ہونا

ہر مُسافر کا ہم سفر ہونا
کتنا مُشکل ہے رہ گزر ہونا!
اک خرابے میں عالی شان مکان
اور بھرے شہر میں کھنڈر ہونا
تبصرے کرنا تازہ خبروں پر
اپنی حالت سے بے خبر ہونا
ایک تو لڑنا باد و باراں سے
اور پھر خُشک شاخ پر ہونا
پختہ کرنا شکستہ دیواریں
اور خُود ٹُوٹنے کا ڈر ہونا
ایک سا تجربہ ہے میرے لیے
گھر میں ہونا کہ در بہ در ہونا
چھان مارا ہے آج دل کو بھی
تم یہاں بھی نہیں، مگر ہو نا؟
جانے کل کس قدر بچوں! شارقؔ
کم نہیں میرا اس قدر ہونا!

سعید شارق