سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

جامِ ہَستی خُوشی خُوشی بھرتا

جامِ ہَستی خُوشی خُوشی بھرتا
چاہے مَیں ایک گُھونٹ ہی بھرتا
شور تھا شیشۂ سَماعت میں
کون اِس میں تِری ہنسی بھرتا!
کُچھ تو کرتا یُونہی گُزرتا وَقت!
زَخم دیتا کوئی! کوئی بھرتا!
کیا کروں! سارے گھاؤ ایک سے تھے
پہلا بھرتا تو آخِری بھرتا
یُوں تو خالی نہ چھوڑتا وہ مجھے!
مَئےِ تَنہائی ہی سہی، بھرتا!
ہاتھ لگتا اگر پیالۂ ہِجر
خالی کرتا اُسے، کبھی بھرتا
دَفعتاً بُجھ گیا چراغِ طَرَب
میرے سینے میں روشنی بھرتا!
دَشتِ دِل پر رہی نظر کہ غزال
جانے کب گُزرے، چَوکڑی بھرتا!
پہلے ہی سے بھرا تھا جامِ وُجود
خالی ہوتا تو کیا یُونہی بھرتا!
آخِرش خُود ہی ہو گیا مِسمار
اِک مَکاں کِس طرح گَلی بھرتا!
مَیں بھی ایسے نہ سُوکھتا، شارقؔ
میرا پانی اگر وہی بھرتا

سعید شارق