جلا ہُوا ہے نہ جانے کہاں چراغ اُس کا
کہ مجھ ہَوا کو بھی ملتا نہیں سراغ اُس کا
پٹخ دیا سرِ فرشِ فراق تو یہ کُھلا
مرے وجود سے لبریز تھا ایاغ اُس کا
نکل تو جاؤں دبے پاؤں ذہن سے لیکن
مَیں کیا کروں کہ بہت تیز ہے دماغ اُس کا
یہ اور بات مجھے مور جیسا لگتا ہے
بھٹک رہا ہے مرے جنگلوں میں زاغ اُس کا
مری نظر سے لگا تھا جو اُس کے چہرے پر
کسی بھی طرح نہیں مٹ سکا وہ داغ اُس کا
وہ مجھ کو سوچنے لگتا ہے اور شدت سے
کچھ اس لیے بھی گراں ہے مجھے، فراغ اُس کا
بہت سے پُھول مرے جیسے ہو چکے ،شارق
اُجڑ رہا ہے بتدریج پائیں باغ اُس کا
سعید شارق