جس قدر بتلا رہا ہوں اتنی قیمت بھی نہیں
ایسی تنہائی کا ہدیہ تو محبت بھی نہیں
گھر کے اندر دُور چلتی گاڑیوں کا شور ہے
گرچہ اب مجھ کو کہِیں جانے کی حاجت بھی نہیں
نیند کی گٹھڑی اُٹھائے پِھر رہی ہے تیرگی
اور اک منظر جو آنکھوں کی ضرورت بھی نہیں
کوئی خُود چھانے تو چھانے خاکِ بینائی مگر
کُچھ نہیں دیکھوں گا میں، ہاں! تیری صورت بھی نہیں
مانگتا رہتا ہوں اور پھر لے کے ٹلتا ہوں اسے
گرچہ وہ لمحہ مِرے ہونے کی اُجرت بھی نہیں
سعید شارق