کئی نادیدہ جہانوں کی جگہ بن جائے
پھر بڑھے تیری کمی اور خلا بن جائے
ہاتھ رکھ لیتا ہوں کانوں پہ، اُسے سوچتے وقت
جانے یہ خامشی کس لمحے صدا بن جائے
سوچتے سوچتے گلدان ڈھلے، کیاری میں
دیکھتے دیکھتے ہی بلب دِیا بن جائے
دل کا بوجھ آن پڑا ایک ذرا سے غم پر
جیسے بچپن میں کوئی گھر کا بڑا بن جائے
اب تو جینے کے لیے آپ بھی تیّار ہوں مٙیں
بس تماشا ہی تو بننا ہے، سو کیا؟ بن جائے!
سعید شارق