سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

کھڑے ہی رہ گئے، مَیں اور انتظار مِرا

کھڑے ہی رہ گئے، مَیں اور انتظار مِرا
مذاق اُڑاتی رہی، گردِ رہ گُزار، مِرا
مَیں کش لگاتا ہوں اور آپ جھڑتا جاتا ہوں
سُلگ رہا ہے مِری راکھ سے سگار مِرا
یہ دل یہ گرد بھرا تخت، روز کہتا ہے:
کہاں گیا ہے ترا غم؟ وہ شہریار مِرا؟
گِرا ہے مجھ سے بہت دُور لمحۂ امروز
کوئی دبوچ نہ لے جائے یہ شکار مِرا!
نہ جانے کب مجھے رُوپوش ہونا پڑ جائے!
سو چل رہا ہے مِرے ساتھ ساتھ غار مِرا
نگاہ پڑتے ہی مَیں ڈُوب ڈُوب جاتا ہوں
بھرا ہُوا ہے عجب مچھلیوں سے جار مِرا

سعید شارق