خود ہی پُھوٹا مرے اندر سے کوئی بیج کہیں
اور پھر مجھ میں اُداسی کی جڑیں پھیل گئیں
دو گڑھے تھے جنہیں کچھ پانی سے بھر رکھا تھا
تجھ سے پہلے مری آنکھیں ، مری آنکھیں تو نہ تھیں
ایسا لگتا ہے ابھی مجھ کو نگل جائے گی
پاؤں رکھوں تو مجھے گھورنے لگتی ہے زمیں
وہ مکیں ہوں جسے ملتا ہی نہیں اپنا مکاں
وہ مکاں ہوں جسے ملتا ہی نہیں اپنا مکیں
گھونٹ بھر بھی تری خواہش نہیں درکار مجھے
مَیں تو پہلے ہی بہت سیر ہوں ، بس! اور نہیں
مَیں نے اک غم کے سیہ گھر میں قدم کیا رکھا!
ان گنت روشنیاں میری طرف دوڑ پڑیں
اب تو بس آگ لگانے کی کسر رہ گئی ہے
لکڑیاں اُوب چکیں ، جھونپڑیاں ٹُوٹ چکیں
ہاتھ ملتی ہوئی رہ جائیں گی آنکھیں ، شارق
وہ کہیں اور چلا جائے گا مَیں اور کہیں
سعید شارق